Rat

بھیگتی شام تھی دسمبر کی

بھیگتی شام تھی دسمبر کی
اور سردی کے سخت پہرے میں
تیری باتوں کی نرمگیں حدت
تیرے لہجے میں بولتی شدت
تیری آنکھوں میں کھیلتی شوخی
تیری پلکوں پہ جاگتے سپنے
اور مسکان تیرے ہونٹو ں کی
جیسے بارش میں دھوپ نکلی ہو
بھیگتی شام تھی دسمبر کی
اور سردی کے سخت پہرے میں
ایک انمول چائے کے کپ نے کتنے لفظوں کو دے دیے معنی
کتنی یادوں کو دھڑکنیں دے دیں
تیری قربت کے نور سے روشن، میری آنکھوں میں آسجے لمحے
میرے ہاتھوں پہ مسکرا اٹھی،تیرے ہاتھوں کے لمس کی خوشبو
کتنی معصوم آرزوؤں نے یاد کی ڈائری میں رکھے تھے
سرخ کچھ پھول تیری چاہت کے
تیری پلکوں پہ جاگتے سپنے
تیرے ہاتھوں کے لمس کی خوشبو
میرے بے ربط سے کئی جملے
اور اسی شام میں دسمبر کی
دل میں جیسے بہار کا موسم پورے جوبن پہ مسکراتاہو
جیسے بادل خوشی کے عالم میں گیت چاہت کے گنگناتا ہو
جیسے قوس قزح سے لکھاہو آسماں پر غزل کا اک مصرعہ
جس طرح روشنی ستاروں کی ،جس طرح آبشار کانغمہ
اور اسی شام میں دسمبر کی
سانس لینے کو مسکرانے کو
نت نئے خواب بن رہے تھے ہم
زندگانی میں روشنی کے لیے
کتنی یادوں کو چن رہے تھے ہم

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.