pic_a73ff_15181932

ناروے میں برف سے بنے آلات موسیقی سے بہت ہی ”ٹھنڈی“دھنیں بجائی گئیں

برف زدہ نارویجن گاؤں میں ایک بڑے سے اگلو (گنبد نما عمارت) کے اندر بجائی گئی موسیقی کی آواز نے ٹھٹھرتے ہوئے سامعین کو گرما دیا جو کہ منفی 24 ڈگری سینٹی گریڈ کی سردی میں وہاں موجود تھے۔
محفل میں جن آلات کی مدد سے سُر بکھیرے گئے وہ تمام تر آلات برف سے بنائے گئے تھے۔ منجمد جھیل سے نکالے گئے برفیلے بلاکس کو بڑی محنت کشی سے تراش خراش کر زائلو فون، باجے اور بل دار آلات میں تبدیل کیا گیا تھا، جن کی وجہ سے فنس کے پہاڑی گاؤں میں تیرھویں موسیقی کے تہوار میں انگلیوں کو سن کردینے والے مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔

ان آلات کے استعمال میں درپیش سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ ان آلات کو بجایا جاتا ہے اتنا ہی یہ اجزاء میں تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس تہوار کے بانی ٹرجے سنگسٹ (جو کہ باجا بجاتے ہیں) کا کہنا تھا، “ایسے آلات کو بجانا کوئی آسان کام نہیں ہے جو بجانے کے ساتھ ہی پگھلنا شروع ہو جائیں۔


بہت گرم اونی دستانے پہن کر وہ برف سے بنے سینگ میں جب گرم ہوا پھونکتا ہے تو اس کے اندر نیلے اور فیروزی رنگ کی روشنیاں نمودار ہوکر اسے منور کر دیتی ہیں۔

ان کے ساتھ ملکوتی آواز کی حامل گلوکارہ اپنے منہ کو اسکارف سے ڈھانپے رکھتی ہے تاکہ گرمائش کا احساس ملتا رہے۔
اوسلو کے مغرب میں 195 کلومیٹر (121 میل) کے فاصلے پر 2 سے 3 فروری کو اس تہوار کا اہتمام کیا گیا۔ برف سے بنی عمارت میں درجنوں افراد گرم لباس میں ملبوس اس منجمد کر دینے والی سردی میں برف کے بینچوں پر بیٹھ کر بھی خوش تھے اور ایک دوسرے کے گرد اپنے بازو لپیٹے ہوئے تھے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر اور عملے کے رکن ایمائیل ہولبا کا کہنا ہے کہ “یہ فن اور پاگل پن کے درمیان ایک عمدہ امتزاج ہے۔ چیزیں غلط ہو سکتی ہیں، آلات ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔۔۔ لیکن سامعین اسے ایسے ہی خالص شکل میں پسند کرتے ہیں۔ “

اپنا تبصرہ بھیجیں