2018 k zalzalay

2018 زلزلوں کا سال!! آخر کیوں؟

حال ہی میں سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ 2018 میں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ زلزلے آئیں گے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ رواں سال ایسا کیا ہوگا جس سے زلزلوں کی شدت میں اضافہ ہوگا؟ آیا یہ عمل قدرتی ہے یا انسانی مداخلت کا نتیجہ ہے؟زلزلوں کے بارے میں بہت سی مَن گھڑت کہانیاں مشہور ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری زمین ایک بیل کے سینگوں پر ٹکی ہوئی ہے اور جب وہ بیل زمین کو اپنے ایک سے دوسرے سینگ پر منتقل کرتا ہے تو زلزلے آتے ہیں۔ اس قصے میں بالکل بھی حقیقت نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ زمین کی مختلف تہیں ہیں اور ہم اس کی بیرونی سطح پر رہائش پذیر ہیں، جسے “کرسٹ” کہتے ہیں، اس کے نیچے کھولتا ہوا لاوا موجود ہے۔ اس جگہ کو “میگما” کہا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ زلزلوں کا اس سے کیا تعلق ہے؟زمین کی کرسٹ سالم نہیں ہے بلکہ میگما کے اوپر تیرتے چٹان کے ٹکڑوں کی مانند ہے۔ ہر ٹکڑے کو سائنسی اصطلاح میں “ٹیکٹونک پلیٹس” کا نام دیا جاتا ہے۔ جب میگما میں گرمی اور پریشر بڑھتا ہے تو اس وجہ سے ٹیکنوٹک پلیٹس اپنی جگہ سے ہلتی ہیں اور ایک دوسرے سے ٹکراتی بھی ہیں۔ ان پلیٹس کے آپس میں ٹکراؤ کی وجہ سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو زلزلے کا سبب بنتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ زمین اپنی پیدائش کے بعد بہت تیز گھومتی رہی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سورج اور چاند کی کشش نے اور اس کے علاوہ بہت سے عوامل نے اس کی رفتار آہستہ کردی اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔سائنسدانوں نے گزشتہ صدی میں آنے والے زلزلوں پر تحقیق کی تو نتائج جان کر بہت حیران ہوئے کہ جن سالوں میں زلزلوں کی شدت میں اضافہ ریکارڈ ہوا، انہی سالوں میں زمین کی محوری گردش میں بھی کمی دیکھی گئی۔ مزید تحقیق کے بعد سائنسدانوں کو زلزلوں کے ساتھ زمین کی گردش کا تعلق سمجھ میں آیا۔ زمین کا لمبائی میں قطر اس کی چوڑائی میں قطر سے کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کی گھومنے کی رفتار 460 میٹر فی سیکنڈ ہے جس کی وجہ سے زمین میں موجود مادہ خط استوا پر باہر کی طرف ہے اور قطبین پر سے زمین سکڑی ہوئی ہے۔ سائنسی اصطلاح میں خط استوا اس لکیر کو کہا جاتا ہے جو زمین کو شمالی اور جنوبی نصف کرہ میں الگ کرے۔ اس کی مثال آپ نے روز مرّہ زندگی میں دیکھی ہوگی کہ اگر آپ کسی سوفٹ گیند کو لیں اور اسے اپنے محور پر گھمائیں تو وہ بیچ سے ذرا سی باہر کی طرف ڈھلکی ہوئی ہوگی۔ اس طرح جتنی تیز رفتار سے اس گیند کو گھمایا جائے گا وہ بال بیچ سے اتنی ہی باہر کی طرف ہوگی۔چونکہ زمین اپنی پیدائش کے بعد تیز رفتار گھوم رہی تھی اس لئے یہ بیچ سے باہر کی طرف ڈھلکی ہوئی تھی لیکن اب جیسا کہ اس کی گھومنے کی رفتار میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اس لئے زمین کا درمیان سے ڈھلکنا کم ہو رہا ہے یعنی خط استوا کا قطر کم ہو رہا ہے۔ قطر میں کمی واقع ہونے کی وجہ سے وہ ٹیکٹونک پلیٹس، جو پہلے زیادہ قطر میں پھیلی ہوئی تھیں، اب کم قطر میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں ان کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی ٹکراؤ کی وجہ سے زلزلوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان پلیٹس کے ٹکراؤ کی وجہ سے جب ان کے کناروں کا ایک دوسرے سے تصادم ہوگا تو اس تصادم کے نتیجے میں پہاڑ بنیں گے اور کئی پہاڑوں میں آتش فشاں بھی پھٹیں گے۔ لیکن یہ سب بدلاؤ 2018 میں ہی کیوں آ رہے ہیں؟ یہ اس لئے کیونکہ 2018 میں زمین کی گردش کی رفتار ایک بار پھر کم ہو رہی ہے۔

زلزلوں کی صورت میں احتیاطی تدبیر اپنانا ضروری ہوتا ہے اور اگر یہ نہ اپنائی جائیں تو نتائج جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً زلزلے آنے کی صورت میں اگر آپ کسی عمارت میں موجود ہیں تو کسی کُھلی جگہ پر فوراً چلے جائیں یا اگر آپ کسی ایسی عمارت میں ہوں جہاں سے فوراً باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو کمرے میں موجود کسی میز کے نیچے خود کو ڈھانپ لیں. پنجاب کالج لاہور کے طالب علم، “لاہور آسٹرونومیکل سوسائٹی (LAST)” اور “دی پلانیٹری سوسائٹی (TPS) کے رکن اور علم فلکیات کے شوقین ہیں۔سید منیب علی 2013 سے آسمان کا مشاہدہ کر رہے ہیں، علم فلکیات کے موضوعات پر لکھنا ان کا من پسند مشغلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں