Sanju Jail se Bahr

سنجے دت کی زندگی پہ بننے والی فلم “سنجو” پر ایک نظر

سنجو ’نام‘ ہے سنجے بابا کی کہانی ہے وہی سنجو جس کی اب تک کی پوری زندگی سانپ کی ’جنگ‘ہے کبھی اوپر کبھی ’اچانک‘ دھڑام سے نیچے، داستان ہے اس بگڑے شہزادے کی جو 22 سال کا تھا تو’گمراہ‘ ہو کر اتنی منشیات استعمال کی کہ پھیپھڑے ختم ہوگئے اور ڈاکٹرز نے بھی اس کا چیپٹر کلوز کردیا۔

Sajnu as a body builder

ہمت ایسی کہ نہ صرف ’زندہ‘ رہا بلکہ ’راکی‘ بن کر ڈاکٹرز کو بھی غلط ثابت کیا اور ایسا ’طاقتور‘ ہوا کے لوگ محمد علی سے موازنہ کرنے لگے۔ ’لائف ہو تو ایسی‘ کہ چارٹرڈ طیاروں میں اکیلے وی آئی پی سفر بے شمار کیے لیکن حالات ایسے بھی دیکھے جب بس کا ’مسافر‘ بننے کیلئے ایک ٹکٹ کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ’سڑک‘ پر بیٹھ کر بھیک بھی مانگی۔

Sanju as beggar

دنیا کے مہنگے ترین شہروں کے مہنگے ترین ہوٹل میں رہنے والا ’ہیرو‘ جو اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے پورا شہر دیکھتا تھا لیکن جب جیل جا کر ’کھل نائیک‘ بنا تو ایسی کال کوٹھری میں رہنا پڑا جہاں کھڑکی تو دور کی بات غالباََ روشنی کیلئے چھوٹا سا سوراخ بھی نہیں تھا۔

یہ ’کارتوس‘بے بس ہوا تو پولیس والوں نے جھانپڑ بھی مارا، خطرہ ایسا کہ انڈر ورلڈ نے مروانے کیلئے سپاری بھی نکالی، ’لَک‘ ایسی کہ کلائی پر سجنے والی مہنگی خوبصورت گھڑیاں بھی پہنیں وقت پلٹا تو ان گھڑیوں کی جگہ قیدی والی ہتھکڑیاں بھی پہنیں۔

Sanju in jail

300سے زائد ’محبوبہ‘کے ’ساجن‘ بننے نے ایسے حالات نہیں دکھائے جو ’خطروں کے کھلاڑی‘ کو ایک ’ہتھیار‘ اے کے 56 رائفل کی وجہ سے جھیلنے پڑے۔

کتنی آسانی سے جھٹ پھٹ راج کمار ہیرانی اور ابھیجات جوشی کی تحریر کو رنبیر کپور سنجے دت بن کر ایک منٹ میں آ پ کے دل میں بسادیتے ہیں۔ اِسی ایک منٹ کے بعد نوجوان سنجے کے روپ والے رنبیر کپور ٹیزر دیکھنے والوں کو ’خبردار‘ کرتے ہیں کہ ’سب سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے‘ لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے کیونکہ ٹیزر تو پہلے فریم سے دیکھنے والوں کو قابو کرچکا ہوتا ہے۔

قابو ہونے والے بھی دیوانے ہوچکے ہوتے ہیں کہ شکنجہ اور کَس دیا جائے۔

Sanju Rockstar

ٹیزر میں سنجے دت کی زندگی کے مختلف دور اور اسٹائل دکھائے گئے، ٹیزر میں منا بھائی، راکی، کھل نائیک، سڑک، واستو اور ابھی آخری بار جیل سے باہر آنے والے سنجے دت پر فوکس کیا گیا ہے۔

Sajnu in different roles

فلم میں سنجے دت کا کردار رنبیر کپور نے ادا کیا ہے، رنبیر کی فلمیں سپر ہٹ ہو یا فلاپ ان کی اداکاری لاجواب ہوتی ہے۔ ’راک اسٹار‘، ’تماشا‘ اور ’جگا جاسوس‘ سمیت وہ جو کردار ادا کرتے ہیں اس کو اپنے اوپر طاری کرلیتے ہیں، سنجے دت کا کردار ادا کرنا بڑے بڑے ہیروز کیلئے آسان نہیں ہوتا۔

رنبیر کپور کو چھوڑ کر عامر خان ہی ایسے اداکار ہیں جو اپنی محنت سے کردار میں ڈھل جاتے ہیں اب چاہے اس میں دن لگے یا سال، عامر خان تو اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے سنجے نہیں بن سکتے تھے لیکن رنبیر کا قد کاٹھ بھی سنجے جیسا ہے اور شکل کے کافی ”فیچرز“ بھی، پھر ’پی کے‘ میں بھی تو عامر خان اپنا جانشین رنبیر کو ہی بنا کر گئے تھے۔

رنبیر نے مسلسل محنت کرکے نہ صرف اپنے جسم کو سنجے کی طرح بنایا بلکہ ان کی طرح بول چال کو اپنایا اور سنجے کی روح کو اپنے اندر بسالیا باقی کام میک اپ آرٹسٹ اور کاسٹیوم ڈیزائنر نے پورا کردیا۔

Snaju as muna bhai and khalnayk

ہر دور کا سنجے بننے کیلئے رنبیر اور راجو کمار اینڈ ٹیم نے کتنی محنت کی ہوگی اس پر ایک کتاب بھی لکھی جائے تو کم ہوگا۔ ایک اور دلچسپ اتفاق کہ رنبیر اور سنجے دت دونوں اسٹار کڈز ہیں ایک نرگس جی اور سنیل دت کے بیٹے ہیں تو دوسرے رشی کپور اور نیتو سنگھ کے، دونوں کی گرل فرینڈز کی کہانی بھی لگ بھگ ایک ہی ہے، ٹیزر دیکھتے ہوئے احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے سامنے سنجے ہیں یا رنبیر۔

ڈائریکٹر اور رائٹر راج کمار ہیرانی تو ہیں ہی ’استادوں کے استاد‘ خود اتنی محنت کرتے ہیں، اتنا ٹائم لگاتے ہیں اور ایسا کام کرتے ہیں کہ بڑی سے بڑی مشکل بات آسانی سے چٹکی بجا کر سمجھا دیتے ہیں۔

منا بھائی سیریز، تھری ایڈیٹس اورپی کے ایک ایک سین، مکالمے، کردار سب کو زبانی یاد ہیں، مسکراہٹ ہو یا آنسو ان کی فلمیں جذبات سے ’فُل‘ ہوتی ہیں دل فلم سے ایسا جُڑتا ہے کہ کبھی الگ نہیں ہوتا۔

فلم میں کتنی ہی متنازعہ بات ہو وہ ایسے پیش کی جاتی ہے کہ 8 سے 80 سال سب مَن لگا کر ان کی بات سنتے اور سمجھتے ہیں، ان کی ٹیم کمال کی ہے جن میں سب سے اوپر ان کے ساتھی رائٹر ابھیجات جوشی کا نام آتا ہے۔

راجو کا کہنا ہے کہ سنجے کی کہانی پر فلم بنانا آسان نہیں تھا کیونکہ سنجے ایسی شخصیت ہیں جن کو دنیا پہلے سے بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ راجو کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ بھی تھا کہ وہ اپنی باقی فلموں کی طرح اس فلم میں وہ آزاد نہیں بلکہ محدود تھے کیونکہ ان کو سنجے کی زندگی کی باؤنڈری میں رہتے ہوئے کام کرنا تھا۔

Sanju as Kartoos

سنجے دت کی زندگی بیک وقت اتنی مشکل اور خوبصورت ہے کہ انھیں بے شمار واقعات فلم کیلئے چھوڑنے پڑے ان میں سے ایک وہ ہے جب اوباما نے امریکی صدر بننے سے پہلے 2004 میں شکاگو میں ’منا بھائی‘ کی مقبولیت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔

تین بار شادی، سیکڑوں گرل فرینڈز، بہت کم لوگوں سے دوستی کچھ سے دوستی کے بعد ناراضی کچھ سے ہمیشہ کی دشمنی، بار بار جیل کی سیر، سنجو( ون مین مینی لائیوز) کا ٹیزر دیکھنے اور سننے کے بعد سنجے کی کہانی کا انتظار 29 جون تک تو کرنا ہی ہوگا۔

راجو اور سنجو کی دوستی بہت پرانی ہے، شاہ رخ نے اپنی کمر کے درد کی وجہ سے منا بھائی چھوڑی اور اس کے بعد سنجے دت ایسے منا بھائی بنے کہ راجو نے انھیں اپنی اب تک چار میں تین فلموں میں کاسٹ کیا۔ پی کے ’وائرس‘ یعنی بمن ایرانی اب تک واحد ایسے اداکار ہیں جو راجو کی ہر فلم میں نظر آئے ہیں اور سنجو میں بھی انھوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

فلم میں سنجے کے ساتھ ان کے دوست سلمان خان اور گرل فرینڈ مادھوری بھی ہیں آئیے جانتے ہیں کون کون کون سا کردار کون سا اداکار کر رہا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.