Khani

ڈرامہ سیریل “خانی” پہ ایک نظر

آخر کار خانی ڈرامہ نے وہ کام کر ہی دیا جس کے لے نہ جانے میں کب سے منصوبہ بندی کر رہا تھا کہ کبھی تو کچھ میں بھی لکھوں کبھی تو اپنے خیالات کو الفاظ کے رنگوں میں ڈھالوں۔

پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا تو بچپن میں ہی شوق تھا کیونکہ اسوقت تو پی ٹی وی ہی زندہ باد تھا صرف ۔ پھر کیبل آئی اور ہر سادہ چیز کو کھا گیئ۔ کافی عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن ایک دوست نے کہا کہ ڈرامہ سیریل “خدا اور محبت” دیکھو بہت اچھا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کونسے چینل پہ آتا ہے ۔ بولا “جیو”۔ بس جی تو بات یوں کہ جیو سے غائبانہ جنگ ہے کیونکہ جیو کا تاثر ہی غدار کا بنا دیا گیا ہے ہمارے اذہان میں۔ کچھ دن بعد خیر تجسس سے مجبور ہو کے یوٹیوب پہ پہلی قسظ چلا دی بس پھر تو جب تک سارا سیریل نہیں ختم کیا، چین نہیں آیا۔ پھر باری آئی “میری ذات زرہ بے نشاں”۔ اب اس ڈرامہ کی کہانی اور اس کے اداکاروں کی اداکاری کی تعریف کرنے کے لیے الفاظ ہی موزوں نہیں مل رھے۔ آج تک میں کبھی اتنا نہیں رویا جتنا اس ڈرامے نے رلایا۔

اب آتے ہیں اصل موضوع یعنی خانی ڈرامہ کی طرف۔ اس ڈرامہ کی رائٹر کی تو کیا ہی بات تھی انہوں نے کہانی کے کسی بھی موڑ پر اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی۔

ڈائریکٹر اور پروڈہوسر نے کافی زیادہ محنت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز تک کا خیال رکھا اور کہانی کو بہت اچھے طریقے سے آگے چلایا۔ الغرض اس ڈرامے میں آپ نے اگر کوئی خامی ڈھونڈنی ہے تو آپ کو کافی محنت کا سامنا کرنے پڑے گا۔

ہر ایک اداکار نے اپنی اداکاری کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ مٹھل کا نہ بولنا بھی ڈرامہ کا ایک خوبصورت سین ہوتا تھا۔ ہادی نے مٹھل کو جب پکارا کہ تم میرے گونگے سائے ہو تو اس وقت بھی اس کی ڈائیلاگ ڈیلیوری کمال تھی۔

میر ہادی کی بات ہو اور علی کا ذکر نہ آئے بھلا ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔ ڈرامہ میں علی کے کردار کو دیکھ کر انسان کے دل میں خواہش اٹھتی تھی کہ اپنا بھی دوست ہو کو ئی تو علی جیسا۔

ستارہ میر کیا کہوں اب ان کے بارے میں ، کیا کبھی کوئی اتنا بھی رلاتا ہے جتنا ستارہ نے رلایا۔ ان کو ایوارڈ ملنا چاہیے کیونکہ صرف ستارہ اور ہادی ہی دو ایسے کردار تھے جن کو مختلف کردار میں ڈھلنا پڑا۔

پاکستانی ڈراموں کا ایک امیج بن گیا ہے کہ ان کا اختتام ہمیشہ ہی دکھ بھرا ہوتا ہے مگر خانی ڈرامہ میں ایک اچھا اختتام دیکھنے کو ملا اور اختتام بھی ویسا جو ناظرین کا من پسند تھا۔

اس ڈرامے کی سب سے بڑی بات یہ تھی کی اس میں غرور کا سر نیچا دکھایا گیا ۔ اولاد کی تربیت اچھی کرنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا۔ اس میں آپ کو دکھایا گیا کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ اچھا ہو یا برا بدلتا ضرور ہے۔

میر ہادی نے تو اس ڈرامے میں اپنی اداکاری کے وہ جوہر دکھائے کہ بڑے سے بڑا آرٹسٹ بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اتنی میچور اداکاری کی کہ لگتا بھی نہیں تھا کہ آپ کوئی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔

خانی ڈرامہ مٰیں جیت آخر سچ کی ہوئی، جیو چینل کی ہوئی جس نے ہمیشہ ہی بلاک بسٹر سیریلز دہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.