hqdefault

ھاروت و ماروت اور شہر بابل

شہر بابل اور ھاروت وماروت ذکرقرآن میں
==============

mqdefault
اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے:
وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَروُا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ط

“سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ یہ شیاطین نے کفر کیا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور جو علم بابل شہر میں دو فرشتوں ھاروت و ماروت پر نازل کیا گیا-”
[البقرہ: 102/2]

قبل مسیح 598 میں بابل کے بادشاہ بخت نصر *[Nebuchadnezzar] نے Jerusalem پر حملہ کرکے شہر کو تباہ کرنے کے بعد یہودیوں کے عالم فاضل لوگوں قیدی بنا کر بابل میں قید کردیا تھا ۔ یہودیوں کے یہ عالم فاضل Jerusalem میں آپس میں دست و گریباں رہتے تھے اور اپنی کرامات اور جادو ٹونوں سے دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں وقت ضائع کیا کرتے تھے ۔ قیدی بن کر بھی انہوں نے عبرت حاصل نہ کی ۔

چنانچہ اللہ تعالٰی نے ھاروت اور ماروت دو فرشتوں کو انسانی شکل میں ان کے پاس بھیجا لیکن وہ فرشتوں سے بھی جادو ٹونے سیکھنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ ان کا قصہ قرآن پاک کی سورۃ البقرۃ آیت 102 میں ذکر ہے۔

کنواں ھارو وماروت
تاریخی اور قدیم شہر بابل کے کھنڈرات میں وہ کنواں اب تک موجود ہے جس میں ایک روایت کے مطابق دو فرشتے ھاروت اور ماروت لٹکے ہوئے ہیں ۔ اس کنویں میں اب تک پانی موجود ہے اور کافی گہرا ہے ۔ پتھر کا ٹکڑا پھینکیں تو کچھ وقت کے بعد پانی کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ اللہ عزوجل نے یہ کنواں نطور عبرت آج تک محفوظ رکھا ہوا ہے ۔

بابل قدیم ملک کا نام ہےجو موجودہ نقشہ و جغرافیہ میں عراق عرب کہلاتا ہے
اور یہی نام اس ملک کے پایہ تخت کا بھی تھا ۔ یہ شہر دریائے فرات کے کنارے واقع تھا ۔ موجودہ بغداد سے کوئی 60 میل سمت جنوب میں تقریبََا وہیں جہاں آج ہَلّہ کی آبادی ہے ۔ یہ شہر بہت بڑا تھا میلوں اس کا رقبہ تھا ۔ قرآن کریم پارہ 1 رکوع 12 میں بابل کا ذکر آتا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے یہاں بندوں کی آزمائش کے لئے دو فرشتوں “__ھاروت – ماروت__” کو سحر کا علم دے کر بھیجا ۔ یہی وہ کنواں بھی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان فرشتوں کو اس میں الٹا لٹکا کر سزا دی گئی ۔
السِّحْرَ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ ط
“اور وہ [جادو] جو بابل میں ہے دو فرشتوں پر ھاروت اور ماروت پر اترا-“

ابن جریر ، ابن کثیر اور درمنثور وغیرہ تفاسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے__:

حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانہ میں اولاد آدم کے بُرے اعمال کے دفتر کے دفتر آسمان پر جانے لگے تو فرشتوں نے انسانوں کے بارے میں تحقیر آمیز کلمات کہے کہ یہ کیسے بندے ہیں جو اپنے مالک حقیقی کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: میں نے بنی آدم کے خمیر میں شہوت اور غصہ رکھا ہے، اس لئے ان سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں، اگر تم میں یہی قوت شہویہ اور قوت غضبیہ رکھ دوں اور زمین پر اتار دوں تو تم بھی ایسے ہی گناہوں میں مبتلا ہوجاوگے ۔ فرشتوں نے عرض کیا: اے پروردگار! ہم ہرگز گناہوں کے قریب بھی نہیں جائیں گے ۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا: اچھا تم اپنے میں سے دو کو منتخب کرلو، فرشتوں نے ھاروت اور ماروت کو، جو کمال عبادت میں مشہور و ممتاز تھے، منتخب کیا ۔ اللہ تعالٰی نے قوت شہویہ اور غضبیہ ان میں پیدا کرکے حکم دیا کہ زمین پر جاو اور لوگوں کے مقدمات کی سماعت کرکے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو نیز تاکید کی کہ شرک اور خون ناحق اور زنا اور شراب سے پرہیز کرنا ۔

حسب ارشاد خداوندی دونوں فرشتے آسمان سے زمین پر اتر آئے ۔ ان کا معمول یہ تھا کہ صبح سے شام تک قضا کے کام میں مصروف رہتے تھے اور جب شام ہوتی تو اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلے جاتے ۔ ایک مہینہ اسی حالت میں گزر گیا، یکایک امتحان خداوندی پیش آیا کہ زہرہ نامی خاتون جو حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھی، کا مقدمہ پیش ہوا ۔ یہ دونوں فرشتے اس عورت کے حسن و جمال کو دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگئے اور اسے پھسلانا شروع کردیا ۔ اس عورت نے انکار کیا اور کہا کہ جب تک تم بت پرستی اختیار نہ کرو، میرے خاوند کو قتل نہ کرو اور شراب نہ پیو، میں تمہارے پاس نہیں آسکتی ۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ شرک اور قتل ناحق تو بہت بڑے گناہ ہیں، البتہ شراب پینا اس درجہ کی معصیت نہیں، اس لئے اس کو اختیار کرنا چاہیئے ۔ الغرض یہ کہ اس عورت نے اولََا ان کو شراب پلائی، پھر بت کو سجدہ کرایا، بعدازاں شوہر کو قتل کروایا، پھر ان سے اسم اعظم سیکھا اور اسے پڑھا ۔

ھاروت اور ماروت اسم اعظم بھول گئے ۔ اس لئے آسمان پر نہ جاسکے ۔ جب ہوش میں آئے تو نہایت نادم ہوئے اور ادریس علیہ السلام کی خدمات میں حاضر ہوکر استغفار کی اور بارگاہ خداوندی میں شفاعت کے خواستگار ہوئے ۔ اللہ تعالٰی کی بارگاہ سے حکم آیا کہ عذاب تو ضرور ہوگا، لیکن اس قدر تخفیف کی جاتی ہے کہ تمہیں یہ اختیار ہے کہ دنیوی اور اخروی عذاب میں سے جس کو چاہو پسند کرلو؟ فرشتوں نے دنیاوی عذاب کو سہل اور آسان سمجھا، کہ یہاں کا عذاب تو کسی نہ کسی وقت منقطع ہوجائے گا، جب کہ آخرت کا عذاب دائمی ہوگا، لہٰذا انہوں نے آخرت کے دائمی عذاب کے مقابلہ میں دنیا کا فانی عذاب قبول کیا ۔ چنانچہ وہ اللہ تعالٰی کے حکم سے لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر بابل کے کنویں میں الٹے لٹکا دیئے گئے، اور اب وہیں ہر روز ان کو آگ سے عذاب دیا جارہا ہے، جسے وُہی جانتے ہیں ۔ [اللہ پاک kindly مونگه داسی عذاب او گناہ نه محفوظ که please :'((( ] پھر جو کوئی ان کے پاس جادو سیکھنے جاتا، وہ اول تو اس کو سمجھا دیتے اور جب اصرار کرتا تو اس کو سکھا دیتے ۔

امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ محدثین فرماتے ہیں کہ اس بارے میں روایات مرفوعہ اور آثار صحابہ صحیح سندوں کے ساتھ اس کثرت سے آتے ہیں، جن کا انکار ناممکن ہے ۔ ھاروت و ماروت کے واقعہ کو درست تسلیم کرتے ہوئے اس سلسلے میں عقلی و نقلی اعتراضات کی توجیہات پیش کی گئی ہیں ۔ بہرحال اس واقعہ کا سرے سے انکار ناممکن ہے ۔

[سورۃ البقرۃ:۱۰۲/۲ – حوالہ تفسیرابن کثیر – حوالہ تفسیردرمنثور – حوالہ تفسیرروح البیان]

اکثر سیاح اسی شوق میں بابل کا رخ کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اب اس کنویں کے واضح آثار نہیں ہیں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.