images (6)

میرے والد

سمیٹ لیتاھےزمانے بھر کےسبھی غم…
سنا ھے باپ زندہ ھو تو کانٹے بھی نہیں چبھتے…

images (5)

میرا ایم بی اے مکمل ہوئے 2 ماہ گزرے تھے ، اور خوش نصیبی یہ تھی کے پرچے ختم ہوتے ہی میری نوکری ایک مشہور اسٹیل / سریہ بنانے والی کمپنی میں لگ گئی ،
مجھے 3 مہینے کے ٹرائل پیریڈ پر سیلز اینڈ مارکیٹنگ کے عہدے پر رکھا گیا تھا جس میں مجھے 3 نئے گاہک بنانے تھے .
اگر میں 3 مہینے میں 3 نئے گاہک نہیں بنا پایا تو مجھے اِس جاب پر مزید نہیں رکھا جائیگا ،
والد اور والدہ نے بڑی قربانیاں دے کر مجھے پڑھایا لکھایا تھا ، اور میری عمر تاقریبن 26 سال ہوگئی تھی ،
اِس لیے میرے لیے اِس نوکری کا حصول بہَت اہم تھا ،
خیر شروع کا پہلا مہینہ تو کام سمجھنے میں گزر گیا ، دوسرے مہینے کے آغاز سے ہی میں نے سخت محنت کرنا شروع کر دی ،
مجھے علیدہ سے ایک کیبن ، کمپیوٹر اور فون لائن ملی تھی ، میں نے اپنی پڑھائی میں سیکھے ہوئے اصولوں کو یہاں مشق کرنا شروع کر دیا ،
میں صبح 9 بجے آفِس آجاتا تھا ، انٹرنیٹ سے ڈیٹا نکال کر بڑے بڑے بائیرز کو فون کرتا ، ان سے ایمیلز ادریس لیتا اور انہیں ایمیل کرتا ،
شام کو 6 بجے جب سب چلے جاتے تب بھی میں نہ جاتا اور اکثر 9 بجے جایا کرتا ،
مجھے اِس اسٹریٹجی سے اب تک کوئی ایک بھی کلائنٹ نا ملا ،
پِھر میں نے اپنے سینیرز سے پوچھنے کی کوشش کی تو کوئی بھی میری صحیح اندازِ میں رہنمائی نہیں کر رہا تھا ،
شاید اِسے ہی کاروباری دنیا میں سیاست کرنا کہتے ہیں ، جس سے میں بالکل کھلیا تھا ،
سب کا کہنا تھا کے مال بیچنا نانی مان کا کھیل نہیں ، اور ہر کوئی سیلز اینڈ مارکیٹنگ کے لیے پیدا نہیں ہُوا ،
کوئی مجھے اکاؤنٹس میں جانے کا مشورہ دیتا تو کوئی بن کباب کا تھیلہ لگانے کا مشورہ دیتا ،
میں نئے پِھر انٹرنیٹ پر مال بیچنی سے متعلق بہَت سے بلاگس اور یو ٹیوب کی ویڈیوز دیکھیں جن سے مجھے بہَت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ،
میں پوری پوری رات جاگ کر ان ویڈیوز کو دیکھتا اور صبح آفِس جا کر سیکھی ہوئی باتون کو امپلیمنٹ کرتا ، لیکن ان کا بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں آرہا تھا ،
میری تَوَقُّع کے بر عکس پورا دوسرا مہینہ بھی گزر گیا اور میں ایک بھی سودا نہیں بنا پایا تھا ،
میں نے دوبارہ سے اپنی کتابیں کھولیں ،
اپنے سارے لیکچرز دھرائے ، کتابوں میں پڑھی ہوئی ساری باتیں عملی تو پر انجام دیں لیکن پِھر بھی میں اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ،
تیسرے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا ، میں نے اپنے دوستوں سے اور رشتے داروں سے کچھ کونٹیکٹ نمبر لیے تاکہ میں ریفرنس / سفارش سے کسی خریدار کو فون اور ایمیلز کروں تو بات بن جائے لیکن بات نہیں بن پا رہی تھی ،
میں اپنے چچا سے بھی ملنے گیا انہوں نے مجھے کچھ بلڈرز کے نمبرز دیئے اور انہیں کونٹیکٹ کرنے کا کہا ،
میں نے آفِس میں بیٹھ کو سب کو فون بھی کیے ، ان سے ایمیل ادریس بھی لیے لیکن سب نئے تقریبن ایک ہی جملہ کہہ کر مجھے ٹال دیا کے “مال کی ضرورت ہو گی تو بتائیں گئے” ،
صرف 15 دن باقی تھے میرے ٹرائل پیریڈ میں ، لیکن میں ایک بھی سودا نہیں کر سکا تھا ،
اس رات جب میں گھر آیا تو بہَت مایوس اور افسردہ تھا ، مجھے یہ یقین ہوں چکا تھا کے اتنی بڑی کمپنی کی جاب کچھ دنوں کی ہی میری مہمان ہے ،
میں اپنے تمام دوست و احباب ، انٹرنیٹ اور جتنیے بھی دستیاب لنکس تھے سب کو آزما چکا تھا لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نا ہوئے تھا ،
میں رات کے کھانے کے بَعْد ، افسرردگی کی عالم میں گیلری میں کھڑا تھا کے والد صاحب وہاں تولیا سکھانے آئے ،
وہ کلفٹن میں ایک سیٹھ کے ہاں 20 سال سے ڈرائیور کی ملازمت کر رہے ہیں اور اکثر رات کو 10 بجے کے بَعْد ہی لوٹتے ہیں ،
“کام کیسا چل رہا ہے ہمارے شہزادے کا ؟ ” ، ان کی آنکھوں میں ایک امید کی چمک موجود تھی ،
“بس ابّا کوشش میں لگے ہوئے ہیں ، کوئی بات نہیں بن راہی” ، میں نے بے دلی سے جواب دیا ،
“نوکری تو پکی ہے نا ؟ ” ، انہوں نے کچھ پریشان ہو کر پوچھا
“جی ، آپ فکر نا کریں ، سب صحیح جا رہا ہے” ، میں نے بیزاری سے بات ختم کرنے کے لیے کہا ،
مجھے پتہ تھا کے اگر ابّا کو پریشانی بتاونگا تو وہ ہمت نا ہارنے پر اور کسی بزرگ کے قول سنا کر میرا حوصلہ بڑھائیں گئے ،
اِس سے زیادہ ان کے پاس کچھ نہیں ھوگا کہنے کے لیے ،
“لیکین چہرے کے آثار تو کچھ اور ہی بتا رہے ہیں ، ہمارے شہزدے کے” ، انہوں نے شفقت بھرے اندازِ میں بات پِھر سے شروع کی ،
“جی ، ہو پہلی دفعہ نوکری کر رہا ہوں تو تھک سا جاتا ہوں” ، میں نے ایک بار بات ٹالنے کے لیے کہا ،
“اگر 5 منٹ ہیں تو اندر بیٹھ کر بات کریں” ، انہوں نے گزارشنا اندازِ میں کہا ،
مجھے انکا یہ جمه سن کر بہَت شرمندگی ہوئی لیکن میں بے دِلی سے کمرے میں چل دیا ،
“ساریا بیچتی ہے نا تمہاری کمپنی ؟ ” ، انہوں نے میری بیزاری کو اگنور کرتے ہوئے پوچھا ،
“جی ، ابّا سریہ بناتے ہیں ، ہَم لوگ پِھر اسے بیچنا ہوتا ہے ، میں نے ایم بی اے مارکیٹنگ یعنی کے چیزیں بیچنے کے طریقوں کی پڑھائی کی ہے ، اِس لیے میں یہ نوکری کر رہا ہوں” ، میں نے ٹوٹے ہوئے جملوں میں کہا
“تو پِھر کیا ہُوا ، کچھ بیچا اب تک” ، ابّا نئے غصہ دلانے والا ایک اور سوال کر دیا
“نہی ابھی سیکھ رہا ہون” ، میں نے غصے میں آواز بلند کر لی ،
“بیٹا ، اِس میں گھسا اور مایوس ہونے کی کیا بات ہے ، کام میں اونچ نیچ تو ہوتی ہے ، نئی نئی نوکری ہے ، وقت کے ساتھ سب اجائےگا” ،
“بیٹا ، تو ایک قابل آدمی ہے ، اتنے اچھے نمبرز سے پاس ہوتا رہا ہے ، ابھی نوکری لگنے کے بعد بھی گھر آکر پڑھتا رہتا ہے ، دِل لگا کر کام کر ، اللہ آسانی کریگا” ، ابّا نے نے میری امید باندھنے کے لیے اپنا لیکچر شروع کیا ،
“لیکن میرے پاس صرف 15 دن ہیں اب” ، میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال کھینچ کر کہا ،
ابّا فوراً میرے ساتھ آکر بیٹھ گئے اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے ، “کیسے 15 دن بیٹا ؟ کہاں جا رہاہے” ،
میں نے ناچاہتے ہوئے بھی ابّا کو سارا ماجرا بتا دیا ، مجھے پتہ تھا کے ان کے پاس کوئی حَل نہیں ھوگا ،
لیکن پریشانی میں اس وقت مجھے انہیں بتانے کے سوا کچھ اور سمجھ نہیں آیا ،
میں دِل میں سوچ رہا تھا ، کے میرے اتنے قابل دوستوں کو اور انٹرنیٹ پر موجود اتنے سارے سیلز کوروز کو سنے کے بَعْد میرا کام نہیں بنا تو ابّا کچھ خاک مدد کرینگے ،
ابّا نئے مسکراتے ہوئے کہا “بس اتنی سی بات ہے اور تو اتنا پریشان ہو رہا ہے ؟ ” ،
“میری نوکری چلے جائے گی ابّا 15 دنوں میں” ، میں نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا ،
“بیٹا ، ایک بات تو ہمیشہ یاد رکھنا ، روزی کا رازِق اللہ ہے ، محنت کرنا تیرا کام ہے” ،
“میحنت کرنا تیرا ہاتھ میں ہے جو تو کر رہا ہے ، نوکری آنے یا جانے سے رزق کے دروازے بند نہیں ہوتے” ،
“دوسری بات ، آج اتنے سالوں میں پہلی بار تونے مجھے اپنے دِل کی حالت بتائی ہے ، شاید تو اب تک یہی سمجھ رہا ھوگا کے میرے چھوتی جماعت پاس باپ مجھے کیا سمجا یا کیا سکھائےگا” ،
“اج بھی تیرا افسردہ چہرہ دیکھ کر میں تجھ سے بات کرنے کے لیے رکا ، تو آج بھی خود سے نہیں آیا میرا پاس” ،
“نہی ابّا ایسا نہیں ہے ، کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ؟ ” ، میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا ،
“ایسی بات نہیں ہے تو پِھر تو خود سے یہ مسئلہ مجھے بتانے کیوں نہیں آیا ؟ ”
“کتنے دنوں سے مارا مارا پِھر رہا ہے ، کبھی اِس دوست کے پاس کبھی اس دوست کے پاس ، پوری پوری رات کتابوں کے صفحے پلٹتا رہتا ہے تو ، تجھے کیا لگتا ہے ، مجھے کچھ نظر نہیں آتا ؟ ”
“ابا میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا” ، میں نے جھوٹ بولنے کی بیکار سی اداکاری کرتے ہوئے کہا ،
ابّا کا ایک ایک جملہ مجھے شرمندگی کے دلدل میں دکھیل رہا تھا ، ابّا کی باتیں حرف با حرف صحیح تھی ، مجھے خود سے نفرت ہو رہی تھی ،
“جا اٹھ اور قلم اور کاپی لے آ ، آج میں تجھے سبق پڑہاتا ہوً” ، انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے حکم دیا .
میں حیرانی کے عالم میں اٹھا اور اپنے میز سے پین اور کاپی اٹھا لایا ،
“یہ لجیے” ، میں شرمندگی سے صرف یہ 2 الفاظ ہی کہہ پایا ،
انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا “تو ہی رکھ اور جو بتاتا ہوں لکھنا شروع کر” ،
میں نے سَر ہلاتے ہوئے ، پین کا کیپ کھولا اور نیا پیج نکال لیا ،
“پہلی بات تو یہ کے کوئی بھی چیز بیچنے کے لیے پہلے خود کو بیچنا ہوتا ہے ، خریدار پہلے انسان خریدتا ہے ، پِھر مال”
میں حیران تھا کے ابّا نے یہ جملے کہے ہیں ،
“انسان کا حلیہ ، بات کرنے کا سلیقہ اور اخلاق پہلے بکتا ہے مال بَعْد میں” ،
“تو فون اور انٹرنیٹ پر مال بیچنے کی کوشش تو صحیح کرتے ہے ، ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ، ایسا کرنا بھی چاہیے ، لیکن تو چل کر خریداروں کے پاس کتنی دفعہ گیا ہے اب تک ؟ ” ،
“نہی گیا ابا” ، میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ،
“تمہارا کام ہے سریہ بیچنا یعنی بلڈنگ وَغیرَہ بنانے میں جو استمعال ہوتا ہے ، ہے نا”
“جی ابا” میری آنکھوں سے آنسو نہیں رک رہے تھے ،
“اور بِلڈنگ ٹھیکیدار بناتے ہیں ، کیا کہتے ہیں تمہاری زبان میں ؟ ” ،
“بلڈرز اور کنسٹرکشن کمپنز” میں نے چُپکے سے آنسو پونچتے ہوئے کہا ،
“ہان ہاں یہی” ،
“بلڈنگ بنانے سے پہلے ہوتا ہے کھڈہ ؟ ”
“ہان ہوتا ہے ابا”
“کتنے کھڈے دیکھنے جاتا ہے تو کراچی میں اپنے آفِس کے اے سی والے کمرے سے باہر نکل کر ؟ ”
“نہی جاتا ابا” ،
“کسی سیمنٹ والے سے ، بجری والے سے رنگ والے سے دعا سلام بنائی ہے تونے ؟ ”
“نہی ابا” ، میرے آنسو اب ابّا سے چھپانا مشکل ہوتے جا رہا تھا .
“یہ سب نا کر کے تو سوچتا ہے کے کام تیرے پاس گھر چل کر آئیگا ؟ ”
میں رَو رہا تھا ، اِس لیے ابّا کو جواب نہیں دے پایا ،
“مال بیچنے کی نوکری نانی ماں کے گھر کا کھیل نہیں ہے پتر ، کسی کے جیب سے پیسے نکلوانا ، شیر کے منہ سے شکار چیننے کے برابر ہے آج کل”
“دماغ اور جسم دونوں کا کھیل ہے یہ”
ابھی 15 دن ہیں نا تیرے پاس ؟
“جی ابا”
“تو لکھ کام کیسے کرنا ہے توجی” ابّا نئے سنجیدہ اندازِ میں کہا
“دھوپ میں کام کر سکھے گا ؟ ”
“جیی ابا”
“اپنیی جوتیاں توڑ سکتاہے” ؟
“جی ابا”
“خون پسینہ ایک کر دے ، جہاں دیکھے کھڈہ ہو رہا ہے وہاں پہنچ جا ، اس کھڈے کا مطلب ، کوئی عمارت وہاں ضرور بننے جا رہی ہے ، وہاں پہنچگا گا تو 3 ، 4 لوگ ہونگے ، ایک چوکیدار ، ایک ٹھیکیدار یا مینجر اور ایک مونشی”
“تجے پہچاننا ہے کے ٹھیکیدار یا اسکا بندہ کونساہے” ،
“سگرٹ شوق سے پٹے تیں یہ مزدور لوگ ، وہ ساتھ رکھنا ، پہنچ کر دعا سلام بنا ، سیٹھ کا نام اور پتہ نکال اور اگلے دن پہنچ کا اسکے آفس”
“بڑی کمپنی میں کام کرتا ہے تو ، وہ سیٹھ جس کی بِلڈنگ بن رہی ہے یا جو بنا رہا ہے تجھے آفِس میں بیٹھاگا ضرور ، پہلے خود کو بیچ ، پِھر انکی سہولت کی بات کر ، یہ نا بتا تو کیا بیچنے آیا ہے ، یہ بتا ان کو یہ تیرا سریہ کیوں فائدہ مند ہے”
میں اب مزید اپنے آنسوں نہیں چھپا رہا تھا ، ایک ایسے عظیم باپ سے میں دوڑتا تھا جو علم کا سمندر ہے
“بات بنے تو ٹھیک ہے ورنہ ایک ملاقات کا اور ٹائِم مانگ اس سیٹھ سے ، اور اپنے ساتھ کسی بڑے افسر کو لے جا ، ہو بڑا افسر مشکل آئے تیرے ساتھ ، ڈائریکٹ اپنی کمپنی کے مالک کے پاس چلا جا ، جب تیرا مالک سنیگا کے بڑا کسٹمر ہے تو خود آئیگا تیرے ساتھ یا کسی بڑے افسر کو بھیجاگا” ،
“اس سے سیکھنا کے وہ بات کیسے کرتا ہے ، کیا بول کر اپنا ماں بیچتا ہے” ،
میرے آنسوں سے کاپی کا پورا پیج بھیگ چکا تھا ، میں کتنا نالایق اور بے غیرت بیٹا ہوں ، اِس کا اندازہ مجھے آج ہو رہا تھا ، میں اِس دنیا کا شاید سب سے بڑا جاہل تھا ،
“پورای کراچی کے کھڈے تو اکیلا نہیں دیکھ سکھے گا اِس لیے کریں والوں سے دوستی بنا ، انہیں بتا کے اگر وہ تجھے نئے عمارت بننے کی خبر دیتے ہیں اور تجھے وہ آرڈر ملتا ہے تو تو انہیں اپنی تَنْخواہ میں سے کچھ حصہ ان کی محنت کا دیگا” ،
“یہی سیمنٹ والوں ، بجری والوں اور رنگ والوں کے ساتھ بھی کر ، سب کو ملا کر چل اپنے سات ، خود بھی آگے بڑھ ان غریبوں کو بھی ساتھ لے کر چال” .
“ایسے کہتے ہیں سیلز انٹیلیجنس . یہیں تیرے بوڑھے باپ نئے 20 سال کراچی کی سڑکوں کو چاٹ چاٹ کر سیکھا ہے” ،
میرا ضبط ٹوٹ گیا ، میں ابّا کے قدموں میں جا کر گر گیا ، میں دہاریں مار مار کر رَو رہا تھا اور ان سے معافیانںمانگ رہا تھا ،
ابّا کی آنکھوں میں بھی آنسوں تھے ، انہوں نے مجھے سینے سے لگا لیے ، ہَم دونوں باپ بیٹا پتہ نہیں کتنی دیر تک روتے رہے ، اماں میری رونے کی آواز سن کر بھاگ کر آئیں اور ہمیں اِس حالت میں دیکھ کر دَر گئی ،
ان کے پوچھنے پر ابّا نے صرف یہ کہا کے “گیلری میں جن دیکھ کر دَڑ گیا ہے اپنا پوتر” .
ابّا کی بتائی ہوئی باتون سے میں نے 15 دن میں 3 گاہک تو نہیں بنائے لیکن ایک سودا اتنا بڑا بنا دیا جو 50‬ چھوٹے سودوں کے برابر تھا .
آج 26 سال بعد بھی میں اس کمپنی کا حصہ ہوں لیکن ایک ملازم کی حصیت سے نہیں بلکہ 25 % کے پارٹنر کی حیصیت سے ،
زندگی کے کسی بھی مسلے میں پھنستا ہوں تو “میرے والد” صاحب کی قبر خاص طور پر حاضری دیتا ہوں .

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.